فهرس الكتاب

الصفحة 425 من 573

شرکۃ الابدان بھی کہہ دیا جاتا ہے۔

(ج) شرکۃالوجوہ: (Partnership in goodwill)

اس شرکت میں شرکاء کسی قسم کی بھی سرمایہ کاری نہیں کرتے وہ بس اتنا ہی کرتے ہیں کہ تجارتی سامان اپنی ساکھ کی بنیاد پر اُدھار خرید کر نقد قیمت پر بیچ دیتے ہیں جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ پہلے سے طے شدہ تناسب سے تقسیم کرلیا جاتاہے۔

یہ شرکت کی ابتدائی تین قسمیں تھیں،اب ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں:

1۔ شرکت المفاوضہ

2۔ شرکت العنان

(4)شرکۃالمفاوضہ:

دویادو سے زیادہ افراد اس طرح شراکت کریں کہ اپنامکمل سرمایہ جو کہ برابر سرابر ہو وہ سب اکٹھا کرکے کسی کاروبار میں لگادیں،ان کا مال،حقوق تجارت،عمل ونفع،سب بالکل مساوی ہوں،اس شراکت میں ہرشریک دوسرے کاوکیل اورکفیل ہوتا ہے،یہ شرکت شاذونادرپائی جاتی ہے،مثلًا زید اور عمر ہزار ہزار روپے لگا کر سرمایہ کاری کریں اور ان میں ہر ایک کا نفع نصف نصف ہو،حقوق تجارت بھی برابر ہوں،تو یہ مفاوضہ کہلائےگی لیکن اگر کسی ایک شخص کےسرمایہ میں ذرا سا بھی اضافہ ہوگیا تو وہ فورًا "مفاوضہ" سے بدل کر"عنان" بن جائے گی ہر شئے میں مساوات اور برابری برقرار رہنا چونکہ مشکل کام ہے لہٰذا مفاوضہ کا وجود بہت کم ہوتا ہے زیادہ ترعنان ہی ہوتا ہے اس لیے آگے ہماری بحث کا موضوع زیادہ تر"عِنان"ہی ہوگا،اسی لیے"مفاوضہ" کے بارے میں مزید تفصیل ذکر نہیں کی جائیگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت