فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
© جناب تقی عثمانی صاحب بھی مذکورہ آیت مبارکہ کے انگریزی ترجمہ میں فرماتے ہیں:
قرآن مجید کی نصیحت سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وصولی کے لیے بذریعہ صدقہ دباڈالنے سے بہتر ہے کہ تنگدست کے لیے بینک اپنا اصل دین بھی صدقہ کردے۔
قرآن حکیم کی بعض آیات میں اللہ نے ربا کو بیع، صدقہ اور زکوٰۃ کے مد مقابل بیان کیا ہے،
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
1۔ {وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ} [1]
"اللہ نے بیع کو حلال اور رباء کو حرام قراردیا ہے۔"
(یہاں ربا بمقابل بیع ہے)
2۔ {يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِى الصَّدَقٰتِۗ} [2]
"اللہ سُود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔"
(یہاں ربا بمقابل صدقہ ہے)
3۔ {وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُو عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللّٰهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ} [3]
"اور وہ جو تم لوگوں کے مال میں اضافے کے لیے سُود دیتے ہو اللہ کے ہاں اضافہ نہیں
[2] ۔ سورة البقرة:276
[3] ۔سورة الروم:39