فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رضي اللّٰه عنه يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (( إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ) ) [1]
"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خریدوفروخت صرف باہمی رضا مندی سے ہی جائز ہے۔"
ویسے تو شریعت نے جس قدرہمارے لیے ضروری اور مفید تھا اُسی قدرواضح فرمادیا،اُس میں حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی جیسا کہ:
1۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( الْحَلَالَ بَيِّنٌ، والْحَرَامَ بَيِّنٌ، وبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ) ) [2]
"حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے مابین مشتبہات ہیں۔"
اسی طرح نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
2۔ (( لَا يَدْري كَثِيْرُ مِنَ النَّاسِ أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ اَمْ مِنَ الْحَرَامِ ) ) [3]
"بہت سے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ یہ (شبہ والی چیز) حلال میں سے ہے یا حرام میں سے۔"
[2] ۔بخاري كتاب الايمان باب فضل من استبر الدينه
[3] ۔ترمذي كتاب البيوع باب ماجاء في ترك الشبهات ج2 ص 51 احياء التراثات