فهرس الكتاب

الصفحة 170 من 573

ایسی صورت میں ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ شبہات میں پڑنے کے بجائے یقینی اور واضح صورت کو اختیار کرے کسی بھی معاملے میں شریعت نے شک پر فیصلے کو پسند نہیں کیا بلکہ ہمیشہ شک اور شبہ کو ترک کرکے یقینی صورت پر عمل کا حکم دیا۔

مثلًا (i) چاند کا معاملہ ہو اور 29 تاریخ کو بادل ہوجائیں تو یہاں چاند کا ہونا یقینی نہیں بلکہ شک پر مبنی ہے کہ بادلوں کے پیچھے چاند ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی اس لیے حکم ہوا اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن پورے کرو اس لیے کہ تیس تاریخ یقینی ہے کیونکہ قمری مہینہ تیس دنوں سے تجاوز نہیں کرتا۔

اسی طرح حلال وحرام کا معاملہ ہے اس میں شبہ یا تو دلائل کے باہمی و ظاہری اختلاف کی بنا پر ہوگا یا علماء کرام کی مختلف رائے بھی شبہ کا سبب بن سکتی ہے،شبہ کا سبب کچھ بھی ہو ہمارے ایمان کی سلامتی اور دین کی حفاظت اسی میں ہے کہ ہم شبہات میں پڑنے کے بجائے اُس سے اجتناب کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت