فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
بیع (Sale) باطل ہو گی۔
8۔بیع (Sale) مستقبل کے کسی واقعہ پر موقوف نہ ہومثلًا یہ کہنا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا تو میں گاڑی آپ کو 10 لاکھ میں بیچ چکا یعنی نہ جیتنے کی صورت میں سودا نہیں ہوا، اس میں جہالت اور غرر ہے لہٰذا یہ بیع باطل ہے۔
9۔مبیع (Subject matter) کی قیمت بیع کے وقت فریقین کے مابین متعین ہونی چاہئے ورنہ بیع باطل ہوگی۔
10۔اگرمبیع (Subject matter) غذائی اشیاءپر مشتمل ہو تو اُسے اپنے ٹھکانے پر لائے بغیر نہ بیچا جائے، البتہ غذائی اشیاء اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ (جیسے ، لکڑی ، لوہا ، سیمنٹ، شیشہ وغیرہ) ۔
11۔شرعًا حرام اور ممنوع اشیاء کی بیع بھی حرام ہے مثلًاچوری کا مال جب خریدار کو اس کا علم ہو اسی طرح خنزیر یا خنزیر کے اجزاء مثلًا گوشت، چربی یا بال وغیرہ اسی طرح شراب وغیرہ کی بیع بھی حرام ہے اور ایسی تمام اشیاء جن کے استعمال میں حرام کے علاوہ کوئی بھی اور نیک مقصد ممکن ہی نہ ہو اُس کی بیع حرام اور ناجائز ہو گی۔
12۔بائع (Seller) خریدار جو مبیع (Subject matter) کی ایک مرتبہ شناخت ضرور کرائے تاکہ بعد میں تنازعہ نہ ہو۔
13۔بائع (Seller) اگر کسی چیزکو فروخت کررہا ہو تو وہ فروخت ہونے والی چیز (Subject matter) ایسی حیثیت میں ہو جو فی الفور خریدار کے قبضے میں آسکتی ہو (سوائے بیع سلم اور استصناع کے)
مثلًا زید نے بکر کو اپنا مکان کرائے پردیا اور بکر نے ایک دو ماہ تک تو اُس کا کرایہ ادا کیا بعد میں مکان پر قابض ہو گیا ، زید نے کورٹ میں مقدمہ دائر کیا لیکن تاحال بکر کا قبضہ برقرار ہے اس صورت میں زید مکان کا اصل مالک تو ضرور ہے لیکن اس وقت