فهرس الكتاب

الصفحة 117 من 269

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ اسی طرح تھا جیسے دیگر صحابۂ کرام اور محبان و متعلقینِ رسول اللہ کو تھا مگر اس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے اور توحید پرست مسلمانوں کو صراط مستقیم پر رکھنے کے لیے آپ نے خطاب فرماتے ہوئے کہا:

'أَیُّہَاالنَّاسُ! مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لَّا یَمُوتُ'

''اے لوگو! تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو یقینا اللہ تعالیٰ ایسا زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا۔'' [1]

اوراس کے بعد قرآن پاک کی وہ مشہور آیت تلاوت فرمائی:

''اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پس اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کردیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے…۔'' [2]

جسے سن کر نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلکہ دوسرے لوگوں کے بھی شکوک و شبہات زائل ہوگئے۔ [3]

نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فورًا بعد مانعینِ زکاۃ اور مرتدین کا فتنہ اٹھتا ہے۔ قتل و غارت کا سلسلہ اس میں بھی چلتا ہے مگر کہیں سے کوئی شاعر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنے کے سدِّباب کے لیے مدد مانگتا نظر نہیں آتا۔ اس کے بعدفتنے کی صورت میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین

[2] اٰل عمرٰن 144:3۔

[3] صحیح البخاري، حدیث: 1242-1241۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت