فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 269

نبوت اور الوہیت

نعت نگاری سب سے پہلے اس امر کی متقاضی ہے کہ نعت لکھتے ہوئے حدودِ شرعیہ کی پاس داری کی جائے۔ اللہ اور بندے اور الوہیت و نبوت کے فرق کو پیش نظر رکھا جائے۔ دراصل حفظِ مراتب کے ادراک کا ہی نازک مقام نعت گو کے لیے پل صراط عبور کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اکثر شعراء نبوت کے ڈانڈے الوہیت سے ملا دیتے ہیں، مثلًا:

تم کو حریمِ غیب کا پردہ کشا کہوں

یا عالمِ ظہور کا فرماں روا کہوں

یا مہبطِ تجلیٔ بے ابتدا کہوں

یا مظہرِ جلال و جمالِ خدا کہوں

(رشک لکھنوی)

معانی قل ہو اللہ احد کے ہیں عیاں ناسخؔ

برائے قافیہ رکھا ہے میں نے میم احمد کا

(ناسخ لکھنوی)

تو ''اَحَدْ'' ہے نام تیرا ''احمدِ بے میم'' ہے

(سراج اورنگ آبادی)

ہوا کب کوئی ایسا بندہ خدا کا

کہ ہے جس پہ بندوں کو دھوکہ ''خدا'' کا

(امجد حیدرآبادی)

دراصل یہ ''دھوکہ'' تمام مذاہب کے پیرو کاروں کو اللہ کے نبیوں اور نیک بندوں کے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت