فهرس الكتاب

الصفحة 249 من 269

عبد الرزاق اویسی

میں اک نعت کے بول تم کو سناؤں

ہے ممدوحِ رب جو میں گُن اس کے گاؤں

کرے جس کی سیرت کی تعریف خالق

میں اس کی اداؤں پہ قربان جاؤں

میں ہوں اُمّتی خاتم المرسلیں کا

ہوں خوش بخت کتنا! نہ پھولا سماؤں

ہے مدحِ نبی رات دن کا وظیفہ

اسی سے ہی پیاس اپنے دل کی بجھاؤں

رہی چومتی آپ کا نقشِ پا جو

میں اس راہ میں اپنی آنکھیں بچھاؤں

ہو ظاہر مصفّا تو باطن مجلا

جو اُس خاکِ پا کا میں سُرمہ بناؤں

ہوں مقصودِ بعثت سے میں لاتعلق

گو ہر سال میلادِ نبوی مناؤں

میں کہتا ہوں نعتیں تو بھرتا ہوں جیبیں

مگر ڈھونگ عشقِ نبی کا رچاؤں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت