فهرس الكتاب

الصفحة 192 من 269

وہ اہلِ فکر جو بدعت کو اجتہاد کہیں

بدل نہ دیں کہیں دینِ حنیف کا منشور

گھرا ہے یورشِ تشکیک و وہم میں مومن

ہوئی ہیں عام جہاں میں رسومِ فسق و فجور

(خاور )

چنانچہ محبت رسول کی سرمستی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و توصیف کے ساتھ ساتھ آپ کی رسالت و بشریت کا زیادہ گہرے شعور سے مطالعہ بھی اس جدید اسلوبِ نعت میں نظر آتا ہے۔

قدیم اسلوب

اس انداز کی نعتوں میں روایتی اور رسمی رنگ غالب ہے ۔ زیادہ تر توجہ نور محمدی، ولادت رسول، اور معجزات کے تذکرے پر ہے اور آپ کی ذات کے بشری پہلوؤں کا ذکر کم ہے۔

قانون و آئین ، عدل و انصاف، سیاست و ریاست اور اخلاق و تعلیم کے حوالے سے بنی نوع انسان کے لیے آپ کی خدمات وغیرہ کا بیان نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو سرسری انداز اور ثانوی حیثیت میں ہے ۔

عمومًا اکثر و بیشتر نعت گو شعراء نے لکیر کا فقیر بن کر چند مخصوص موضوعات، مثلًا:

نور و بشر ، علمِ غیب ، مختارِ کُل، حاضر و ناظر اور حاجت روا و مشکل کشا جیسے متنازع فیہ مضا مین کو ہی بہ تغیر الفاظ بیان کیا ہے۔

مثلًا:

ملائک نے کیا تھا اس سبب سے سجدۂ آدم

کہ پیشانی سے ان کی نور تھا پیدا محمد کا

(شیفتہ دہلوی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت