فهرس الكتاب

الصفحة 254 من 269

پروفیسر عبداللہ شاہینؔ

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں

یادِ خدا کے دل میں ساماں سجا دیے ہیں

شمعِ اَحَد جلا کے پیغامِ حق سُنا کے

جو بے خُدا تھے ناداں وہ باخُدا کیے ہیں

گھر میں نہ کچھ رکھا ہے یہ شانِ مصطفی ہے

کُل سیم و زر جواہر بہ رہِ خدا دیے ہیں

جنّ و بشر، ملائک، قربان سب خلائق

درجے تمام حاصل بعد از خدا کیے ہیں

نوعِ بشر کو کیوں نہ قسمت پہ ناز ہو گا

خالق نے مصطفی بھی انساں بنا دیے ہیں

وحشی، گنوار، بربر، صحرانشیں، ستمگر

تعلیمِ مصطفی نے انساں بنا دیے ہیں

کیا فکر تشنگی کی شاہیںؔ کو روزِ محشر

ساقی نے جامِ کوثر بھر بھر پلا دیے ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت