فهرس الكتاب

الصفحة 127 من 269

[1] اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنے کی التجا [2] کا عقیدہ رکھتے تو ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی استدعا کرتے مگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی کے باعث جانتے تھے کہ وفات کے بعد انبیاء علیہم السلام سے بھی کوئی التجا نہیں کی جاسکتی۔

اب جبکہ مسلمانوں کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی ہستی دعا سننے والی یا مصائب و مشکلات دور کرنے والی نظر نہ آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اہمیت و عظمت اور کس کے ہاں ملے گی؟ ارشاد باری ہے E مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ للّٰهِ وَقَارًا E''تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ کا کوئی جلال اور وقار ہی نہیں۔'' [3]

جبکہ:

اللہ کا ثانی ہے نہ کوئی ہمسر

پیغام یہ لائے ہیں سبھی پیمبر

مت اس کے سوا کسی کو مشکل میں پکار

لَا تَدْعُ مَـعَ اللّٰهِ اِلٰـھًا اٰخَر (علیم ناصری)

[2] اقبالؔ نے بھی محض تخاطب کے انداز میں کہا ہے:

حضور! دہر میں آسودگی نہیں ملتی تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں وفا کی جس میں ہوبو، وہ کلی نہیں ملتی

[3] نوح 13:71۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت