فهرس الكتاب

الصفحة 185 من 269

جب جھولیاں بھر بھر کے لاتے ہیں جہاں والے

ہم جا کے نہ کیوں مانگیں خیرات مدینے میں

سنتے ہیں کہ بنتی ہیں بگڑی ہوئی تقدیریں

راس آئیں گے ہم کو بھی دن رات مدینے میں

(سرجیت سنگھ لانبہ)

جہاں تک عقیدے اور جذبے کی صداقت کے اظہار کا تعلق ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے نعتیہ کلام کی تخلیق کے پس منظرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت کا جذبہ بھی موجود ہوگا ، مثلًا: ایک اور غیر مسلم شاعر کہتا ہے:

سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں [1]

مرے گھر پر بھی ہو جائے چراغاں یا رسول اللہ

بعض لوگ ایسے اشعار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر وناظر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ غیر مسلم شعراء کی پھیلائی ہوئی گمراہی ہے کیونکہ اگر وہ واقعی اپنی بات کے سچے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پکے عاشق ہوتے تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا اور آخری رسول مان کر کلمہ طیبہ پڑھتے اور اسلام میں داخل ہو جاتے مگر انھوں نے تو محض نعتیہ شاعری کی رسم نبھائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تومانا نہیں لیکن روایتی نعت گو شعراء کی طرح اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محب اوراللہ کا ''نور'' ماننے کے لیے تیار ہو گئے ہیں ، مثلًا:

ع ''یقینا'' آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت