فهرس الكتاب

الصفحة 206 من 269

ذات میں اللہ ہی کودکھانے کی کوشش کی گئی ، مثلًا:

پردۂ میم میں چھپے ہیں حضور

ہم سے نزدیک ہیں ، نہیں کچھ دور

(محو ابو العلائی)

میم کا رُخ سے اُٹھا کر گھونگھٹ

شکل دکھلا مرے پیارے احمد

(شائق حیدر آبادی)

اور تو اور محسن کا کوروی جیسے شاعر کے ہاں بھی اس طرح کی مثال مل جاتی ہے:

ذاتِ احمد تھی یا خدا تھا [1]

سایہ کیا میم تک جدا تھا

(محسن کاکوروی)

کہاں اب جبہہ سائی کیجیے کچھ بن نہیں پڑتا

احد کو کیجیے یا احمدِ بے میم کو سجدہ

(محسن کاکوروی)

اس عقیدے کی تیسری اور کافرانہ صورت وہ ہے جہاں اشارہ و کنایہ کا تکلّف ختم کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف طور پراللہ کہہ دیا گیا ہے ، مثلًا:

وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر

اتر پڑا وہ مدینے میں مصطفی ہو کر

(آسی غازی پوری)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت