فهرس الكتاب

الصفحة 222 من 269

اللہ… اللہ… اللہ… اللہ

اللہ… باہجھوں … خالی… پَلّہ

دیکھیے ! دورِ جاہلیت کی شاعری کی بھی یہی بات سب سے زیادہ سَچّی اور سُچّی قرار دی گئی ہے کہ

ع أَلاَ کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلاَ اللّٰہَ بَاطِلٗ

''خبردار! اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہستی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجانے والی ہے۔''

اس قول کی تصویب و تحسین خود محبوب ومنعوتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی ہے:

'أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَھَا الشَّاعِرُ کَلِمۃُ لَبِیدٍ: أَلاَ کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلْ'

''شاعروں کی کہی ہوئی باتوں میں سب سے سچی بات لبید کا یہ قول ہے: خبردار! اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہستی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجانے والی ہے۔'' [1]

ثابت ہوا کہ موجودہ نعت نگار اور نعت خواں حضرات کے مذکورہ اُمور، آدابِ نعت گوئی کے سراسر خلاف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت