امام عبدالرزاق اور امام ابن ابی شیبہ نے امام شعبی سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
'' إِذَا لَمْ أَحْبِسْ فِيْ الدَّیْنِ فَأَنَا أَتْوَیْتُ حَقَّہُ۔ '' [1]
'' جب میں قرض [کی عدم ادائیگی کی صورت] میں قید نہ کروں، تو خود میں نے اس کے حق کو ضائع کیا ہے۔ ''
امام شعبی کی نگاہ میں عدم ادائیگی کی صورت میں قید کرنے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
'' اَلْحَبْسُ فِيْ الدَّیْنِ حَیَاۃٌ۔ '' [2]
'' قرض [کی عدم ادائیگی] کی بنا پر قید کرنا زندگی ہے۔ ''
۴: قاضی ابن ابی یعلی اور دیگر بہت سے قضاۃ قرض کی عدم ادائیگی کی حالت میں مقروض کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے تھے۔ امام ابن ابی شیبہ نے حضرت وکیع کا بیان نقل کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
'' مَا أَدْرَکْنَا أَحَدًا مِنْ قُضَاتِنَا ابْنَ أَبِيْ لَیْلَی وَغَیْرَہُ إِلَّا وَھُوَ یَحْبِسُ فِيْ الدَّیْنِ۔ '' [3]
'' ہم نے اپنے قضاۃ ابن ابی لیلی اور دیگر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں دیکھا، جو قرض [کی عدم ادائیگی] کی وجہ سے قید نہ کرتا ہو۔ ''
علمائے اُمت کی تنگ دست اور مفلس مقروض کو عدم ادائیگی کی بنا پر قید میں ڈالنے
[2] مصنف عبدالرزاق، کتاب البیوع، باب الحبس في الدین، رقم الروایۃ ۱۵۳۱۲، ۸؍ ۳۰۶۔
[3] مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب البیوع والأقضیۃ، في الحبس في الدین، رقم الروایۃ ۹۶۹، ۶؍ ۲۵۰۔