فهرس الكتاب

الصفحة 131 من 255

'' شریعت اسلامیہ میں کسی انسان کو اپنے مال میں تصرف سے روکنے کا نام [الحَجَر] ہے۔ ''

اسی سلسلے میں امام نووی رقم طراز ہیں:

'' مَنْ عَلَیْہِ دُیُوْنٌ حَالَۃٌ زَائِدَۃٌ عَلَی مَالِہِ یُحْجَرُ عَلَیْہِ بِسُؤَال

غُرَمَائِہِ۔ '' [1]

'' جس شخص پر واجب الذمہ قرضہ جات اس کے مال سے زیادہ ہوں، [تو] قرض خواہ کی درخواست پر (اس کو اپنے مال کے استعمال سے) روک دیا جاتا ہے۔ ''

[اَلْحَجْر]کی دو دلیلیں:

اس بارے میں ذیل میں دو دلیلیں ملاحظہ فرمائیے:

۱: امام حاکم اورامام دارقطنی نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ:

'' أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم حَجَرَ عَلَی مُعَاذٍ رضی اللّٰه عنہ مَالَہُ، وَبَاعَہَ فِيْ دَیْنٍ کَانَ عَلَیْہِ۔ '' [2]

[2] المستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع، ۲؍ ۵۸ ؛ والسنن الکبری، کتاب التفلیس، باب الحجر علی المفلس وبیع مالہ في دیوانہ، ۶؍ ۴۸۔ امام حاکم نے اس کو [صحیحین کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍ ۵۸ ؛ والتلخیص ۲؍ ۵۸۔ ۵۹) ۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: '' دارِ قطنی نے اسے روایت کیا ہے، حاکم نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے اور ابو داؤد نے اسے [مرسل] روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو قابل ترجیح ٹھہرایا ہے۔ (بلوغ المرام ص ۱۱۵) ۔ حافظ ابن الصلاح نے لکھا ہے: '' یہ حدیث ثابت ہے۔ '' (منقول از سبل السلام ۳؍ ۱۰۵) ؛نیز ملاحظہ ہو: سیر أعلام النبلاء ۱؍ ۴۵۳۔ ۴۵۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت