فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 255

'' نَدَبَ إِلیٰ أَنْ یَتَصَدَّقُوْا بِرُؤُوْسِ أَمْوَالِھِمْ کُلًّا أَوْ بَعْضًا عَلیٰ غُرَمَائِھِمْ الْمُعْسِرِیْنَ۔ '' [1]

'' انہوں [اللہ تعالیٰ] نے قرض خواہوں کو اس بات کی ترغیب دی ہے، کہ وہ اپنے تنگ دست مقروضوں کے ذمہ اپنے پورے مالوں کو یا ان کے کچھ حصہ کو صدقہ کردیں۔ ''

۲:دعاؤں کی قبولیت:

۳:مصیبت سے نجات:

امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُہُ وَتَنْکَشِفُ کُرْبَتَہُ فَلْیُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ۔ '' [2]

'' جو شخص چاہے، کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور مصیبت دور کی جائے، وہ تنگدست پر آسانی کرے۔ ''

۴:روزِ محشر کی مصیبتوں سے نجات:

[2] منقول از: مجمع الزوائد، کتاب البیوع، باب من فرّج عن معسر، أو أنْظَرَہ، أو ترک الغارم، ۴؍ ۱۳۴۔ حافظ ہیثمی اس کے متعلق لکھتے ہیں: '' اس کو طبرانی نے [المعجم] الأوسط میں روایت کیا ہے اور اس کے راویان صحیح کے راویان ہیں۔ '' (المرجع السابق ۴؍ ۱۳۴) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت