حصہ کاٹ کر مقروض کو دیتا ہے۔]
قرض کا ایک دوسرا نام سلف:
قرض کو [سلف] بھی کہتے ہیں۔ شیخ شربینی نے بیان کیا ہے، کہ اہل حجاز قرض کو [سَلَف] کہتے ہیں۔ [1]
البتہ [سلف] سے بسااوقات بیع السَلَم [2] مراد ہوتی ہے اور بسااوقات قرض۔ امام قرطبی لکھتے ہیں:
'' السَّلَمُ وَالسَلَفُ عِبَارَتَانِ عَنْ جَائَ ا مَعْنًی وَاحِدٍ، وَقَدْجَائَ ا فِيْ الْحَدِیْثِ غَیْرَ أَنَّ الْاِسْمَ الْخَاصَ بِھٰذَا الْبَابِ السَّلَمُ، لِأَنَّ السَّلَفَ یُقَالُ عَلَی الْقَرْضِ، وَالسَّلَمُ بَیْعٌ مِنَ الْبُیُوْعِ۔'' [3]
[السلم اور السلف دونوں کا معنی ایک ہی ہے اور دونوں[الفاظ] کا ذکر حدیث میں آیا ہے، البتہ اس کا مخصوص نام [السلم] ہے، کیونکہ (لفظ) [السلف] قرض کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور [السَّلَم] لین دین کی تجارتی شکلوں میں سے ایک شکل ہے۔]
قرض کی شرعی حیثیت
قرض لینے کے بارے میں متعدد اور بظاہر مختلف روایات وارد ہوئی ہیں۔ بعض
[2] بیع السلم سے مراد یہ ہے، کہ کسی چیز کی قیمت پیشگی ادا کی جائے اور اس چیز کی وصولی کے لیے ایک وقت کا تعین کرلیا جائے۔ (ملاحظہ ہو: المغني ۴؍ ۳۰۴) ۔
[3] تفسیر القرطبي ۲؍ ۳۷۹۔