'' تو نے سچ کہا ہے… آخر حدیث تک۔ '' ٭
امام بخاری نے اس حدیث کو درج ذیل عنوان کے ضمن میں روایت کیا ہے:
[بَابُ الْکَفَالَۃِ فِيْ الْقَرْضِ وَالدُّیُوْنِ بِالْأَبْدَانِ وَغَیْرِھَا۔] [1]
[قرض کی شخصی اور دیگر (یعنی مالی) ضمانتوں کے متعلق باب]
حافظ ابن حجر نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے:
'' وَفِیْہِ طَلَبُ الشُہُوْدِ فِيْ الدَّیْنِ وَطَلَبُ الْکَفِیْلِ بِہِ۔ '' [2]
'' اس [حدیث] سے قرض میں گواہوں اور ادائیگی قرض کے لیے ضامن طلب کرنا ثابت ہوتا ہے۔ ''
حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ مزید لکھتے ہیں:
'' وَوَجْہُ الدَّلَالَۃِ مِنْہُ عَلَی الْکَفَالَۃِ تَحَدُّثُ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم بِذٰلِکَ، وَتَقْرِیْرُہُ لَہُ۔ وَإِنَّمَا ذَکَرَ ذٰلِکَ لِیُتَأَسَّی بِہٖ فِیْہِ، وَإِلَّا لَمْ یَکُنْ لِذِکْرِہِ فَائِدَۃٌ۔ '' [3]
'' [قرض کی ادائیگی میں] ضامن کے طلب کرنے پر دلالت اس لیے ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا انکار اس کا ذکر فرمایا۔ اور بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے بیان کی، کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے، وگرنہ آپ کے بیان کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ''
امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے:
[2] فتح الباري ۴؍ ۴۷۰۔
[3] المرجع السابق ۴؍ ۴۷۰۔ ٭ مکمل حدیث اس کتاب کے ص ۹۰۔۹۲پر ملاحظہ فرمائیں۔