فهرس الكتاب

الصفحة 148 من 255

'' أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِیْمًا لَہُ بِعَشَرۃِ دَنَانِیْرَ عَلیٰ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم، فَقَالَ:'' مَا عِنْدِيْ شَيْئٌ أُعْطِیْکَہُ۔ ''

فَقَالَ:'' لَا، وَاللّٰہِ!لَا أُفَارِقُکَ حَتَّی تَقْضِیَنِيْ أَوْ تَأْتِیَنِيْ بِحَمِیْلٍ۔ ''

فَجَرَّہُ إِلَی النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم، فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم:'' کَمْ یَسْتَنْظِرُہُ؟ '' فَقَالَ:'' شَھْرًا۔ ''

فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم:'' فَأَنَا أَحْمِلُ لَہُ۔ ''

فَجَائَ ہُ فِي الْوَقْتِ الَّذِيْ قَالَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم:''مِنْ أَیْنَ أَصَبْتَ ھٰذَا؟ ''

قَالَ:'' مِنْ مَعْدِن۔ ''

قَالَ:'' لَا خَیْرَ فِیْھَا۔ ''

وَقَضَاھَا عَنْہُ۔ '' [1]

'' بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص دس دینار ادا نہ کرنے کی بنا پر مقروض کو چمٹ گیا، تو اس [مقروض] نے کہا:'' میرے پاس کوئی چیز بھی نہیں، کہ میں تمہیں دوں۔ ''

اس نے کہا:'' نہیں، اللہ کی قسم!میں اس وقت تجھے نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ تم میری رقم ادا کرو یا مجھے کوئی ضامن دو۔ ''

پھر وہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھینچ کر لے آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:'' وہ کتنی مہلت طلب کر رہا ہے؟ ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت