فهرس الكتاب

الصفحة 190 من 255

دوسرے شہر میں قرض کی واپسی کی شرط لگانا

قرض کے متعلقہ مسائل میں سے ایک یہ ہے، کہ ایک مقام پر قرض دیا جائے اور کسی دوسری جگہ اس کی واپسی کی شرط طے کی جائے۔ فقہ اسلامی میں اس کو [سُفْتَجَۃ] کہتے ہیں۔ علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

'' وَمَعْنَاہُ:اشْتِرَاطُ الْقَضَائِ فِيْ بَلَدٍ آخَرَ۔ '' [1]

'' اس کا معنی یہ ہے:کسی دوسرے شہر میں ادائیگی کی شرط لگانا۔ ''

ا:آثارِ صحابہ:

توفیق الٰہی سے اس سلسلے میں ذیل میں بعض حضرات صحابہ کے آثار نقل کیے جارہے ہیں:

۱: امام مالک نے نقل کیا ہے، کہ انھیں خبر پہنچی ہے، کہ:

''بلاشبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو دوسرے شہر میں ادا کرنے کی شرط پر غلہ قرض دینے کے متعلق اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے فرمایا:

'' فَأَیْنَ الْحَمْلُ؟ '' [2]

'' پس [غلہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ] لے جانے کا کرایہ کہاں ہے؟ [یعنی وہ کس کے ذمہ ہے؟] ''

۲: امام مالک نے اسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ عمر بن خطاب کے دو صاحبزادے عبداللہ اور عبیداللہ رضی اللہ عنہم ایک لشکر کے ساتھ عراق گئے۔ واپسی پر ان کا گزر

[2] الموطأ، کتاب البیوع، باب مالا یجوزمن السلف، رقم الراویۃ ۹۱،۲؍۶۸۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت