فهرس الكتاب

الصفحة 38 من 255

'' قُمْ فَاقْضِہِ۔'' [1]

[اُٹھو اور اس کو قرض ادا کرو] ۔

عہد نبوی کے بعد صحابہ کا قرض لینا:

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قرض لینے کے دو واقعات درج ذیل ہیں:

۱: امام حاکم نے قاسم سے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا:'' مَالَکِ وَالدَّیْنَ؟ ''

آپ کا قرض سے کیا تعلق [یعنی آپ کیوں قرض لیتی ہیں؟]

انہوں نے جواب دیا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

'' مَا مِنْ عَبْدٍ کَانَتْ لَہُ نِیَّۃٌ فِيْ أَدَائِ دَیْنِہٖ إِلَّا کَانَ لَہُ مِنَ اللّٰہِ عَوْنٌ۔ ''

[کسی بھی بندے کی اپنے قرض کی واپسی کی نیت نہیں ہوتی، مگر اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے]

'' فَأَلْتَمِسُ ذٰلِکَ الْعَون۔ '' [2]

[تو میں تو[قرض لے کر] اس مدد کو حاصل کرنا چاہتی ہوں۔]

۲: امام ابوعبید القاسم بن سلام نے ابراہیم سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:

[2] المستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع، ۲؍ ۲۲۔ امام حاکم نے اس کی [اسناد کو صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍ ۲۲؛ والتلخیص ۲؍ ۲۲) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت