فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 255

شرعی معنی:

فقہاء کے نزدیک قرض سے مراد کسی چیز کا اس شرط پر دینا، کہ اس کا بدل واپس کیا جائے۔

امام ابن حزم قرض کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' ھُوَ أَنْ تُعْطِيَ إِنْسَانًا شَیْئًا بِعَیْنِہ مِنْ مَالِکَ، تَدْفَعُہُ إِلَیْہِ، لِیَرُدَّ عَلَیْکَ مِثْلَہُ إِمَّا حَالًّا فِيْ ذِمَّتِہِ، وَإِمَّا إِلیٰ أَجَلٍ مُسَمًّی۔ '' [1]

[وہ یہ ہے، کہ تو کوئی چیز اپنے مال میں سے بعینہٖ کسی کو اس شرط پر دے، کہ وہ اس کی مثل ابھی تجھے ادا کردے، یا ایک مقررہ مدت کو۔]

شیخ شربینی تحریر کرتے ہیں:

'' ھُوَ تَمْلِیْکُ الشَيْئِ عَلیٰ أَنْ یُرَدَّ بَدَلُہُ۔ ''

[وہ کسی چیز کا اس شرط پر مالک بنانا ہے، کہ اس کی مثل واپس کی جائے] [2]

سبب تسمیہ:

قرض کی وجہ تسمیہ یہ ہے، کہ صاحب مال اپنے مال کا ایک حصہ کاٹ کر مقروض کو دے دیتا ہے۔ شیخ شربینی لکھتے ہیں:

'' وَسُمِّي بِذٰلِکَ لِأَنَّ الْمُقْرِضَ یَقْطَعُ لِلْمُقْتَرِضِ قِطْعَۃً مِنْ مَالِہٖ۔ '' [3]

[اور اس کو یہ نام اس لیے دیتے ہیں، کیونکہ قرض خواہ اپنے مال کا ایک

[2] مغني المحتاج إلی معرفۃ معاني ألفاظ المنہاج ۲؍ ۱۱۷۔

[3] المرجع السابق ۲؍ ۱۱۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت