فهرس الكتاب

الصفحة 198 من 255

مقروض کا ہدیہ دینا

بعض لوگ قرض لینے کے بعد ادھار دینے والوں کو تحائف دیتے ہیں۔ ایسے تحائف کا قبول کرنا ناجائز ہے۔ اس بارے میں ذیل میں ایک حدیث شریف اور چند ایک صحابہ کرام اور علمائے اُمت کے اقوالِ ملاحظہ فرمائیے:

۱: امام ابن ما جہ اور امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُکُمْ قَرْضًا فَأَھْدَی إِلَیْہِ، أَوْ حَمَلَہُ عَلَی الدَّابَّۃِ، فَلَا یَرْ کَبْھَا، وَلَا یَقْبَلْہُ إِلَّا أَنْ یَکُوْنَ جَرَی بَیْنَہُ

وَبَیْنَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ۔ '' [1]

''جب تم میں سے کوئی ایک قرض دے، تو وہ [یعنی مقروض] اس کو تحفہ دے، یا سواری پر سوار [ہونے کی پیشکش] کرے، تو وہ نہ تو اس پر سوار ہو اور نہ ہی اس [ہدیہ] کو قبول کرے۔ ہاں اگر ان دونوں کے درمیان پہلے سے اس سلسلے میں کوئی دستور رائج ہو [تو پھر کچھ مضائقہ نہیں] ۔ ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت