فهرس الكتاب

الصفحة 121 من 255

روایت نقل کی ہے، کہ ایک شخص اپنے مقروض کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا:

'' اِحْبِسْہُ۔ ''

'' اس کو قید کروادیجیے۔ ''

انہوں نے فرمایا:

'' ھَلْ تَعْلَمُ لَہُ عَیْنًا فَآخُذُہُ بِہٖ؟ ''

'' کیا اس کا کوئی مال ہے، کہ قرض کے عوض میں اس سے لے لوں؟ ''

اس نے جواب دیا:'' لَا۔ '' … '' نہیں۔ ''

انہوں نے دریافت کیا:

'' ھَلْ تَعْلَمُ لَہُ عِقَارًا أَکْسِرُہُ؟ ''

'' تجھے اس کی کسی جائیداد کا علم ہے، کہ اس سے تیرے قرض کی رقم کاٹ لوں؟ ''

اس نے عرض کیا:'' لَا۔ '' … '' نہیں۔ ''

تو انہوں نے فرمایا:'' فَمَا تُرِیْدُ؟ ''

'' تم کیا چاہتے ہو؟ ''

اس نے عرض کیا:

'' اِحْبِسْہُ۔ ''

'' اس کو قید میں ڈال دیجیے۔ ''

انہوں نے فرمایا:

'' لَا، وَلٰکِنِّيْ أَدَعُہُ یَطْلُبُ لَکَ وَلِنَفْسِہِ وَلِعِیَالِہِ۔ ''

'' نہیں، بلکہ میں تو اس کو چھوڑتا ہوں، تاکہ وہ تیرے قرض کی ادائیگی اور

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت