فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 255

ائمہ شافعی، احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابو داؤد طیالسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:

''إِنَّکُمْ تَقْرَؤُوْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم قَضَی بِالدَّیْنِ قَبْلَالْوَصِیَّۃِ۔'' [1]

'' بلاشبہ تم یہ آیت پڑھتے ہو:'' وصیت کے بعد، جو تم وصیت کرتے ہو، یا قرض (کے بعد) '' اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ ''

امام ترمذی نے تحریر کیا ہے:

'' وَالْعَمَلُ عَلیٰ ھٰذَا عِنْدَ عَامَّۃِ أَھْلِ الْعِلْمِ أَنَّہُ یُبْدَأُ بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ۔ '' [2]

'' عام اہل علم کا عمل اسی پر ہے، کہ بے شک وصیت سے پہلے قرض [کی ادائیگی] سے ابتدا کی جاتی ہے۔ ''

[2] جامع الترمذي ۶؍ ۲۶۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت