فهرس الكتاب

الصفحة 181 من 255

قرض کے ساتھ نتھی کرنا حرام ہے۔ علمائے امت نے اس بات کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔ ذیل میں تین اقوال ملاحظہ فرمائیے:

۱:مواہب الجلیل میں ہے:

''کل عَقْدِ مُعَاوَضَۃٍ لاَ یَجُوْزُ أَنْ یُقَارِنَہُ سَلَفٌ'' [1]

[کسی بھی عقد معاوضہ کے ساتھ قرض[لینا دینا] جائز نہیں]

۲:کتاب [الحاوي] میں ہے:

''لاَ تَجُوْرُ الإِْجَارَۃُ بِشَرْطِ الْقَرْضِ''۔ [2]

[قرض[لینے دینے] کی شرط کے ساتھ کرایہ پر لین دین کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔]

۳: علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

وَلاَ یَجُوْزُأَنْ یَشْتَرِطَ فِيْ القَرْضِ شَرْطًا یَجُرُّبِہِ نَفْعًا مِثْلَ أَنْ یَشْتَرِطَ أَنْ یَبِیْعَہُ أَوْیَشْتَرِيَ مِنْہُ، أَوْیَوْجِّرَہ أَویَسْتَأ جِرَمِنْہُ، لأَنَّ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم نَہَی عَنْ بِیْعٍ وَسَلَفٍ۔وَعَنْ أَبِيِّ بِنْ کَعْبٍ، وابنِ مَسْعُوْدٍ، وابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہم أَنھم نَہَوْا عَنْ قَرْضٍ جَرَّمَنْفَعَۃً، ولأَ نَّہُ عَقْدُ إرْفَاقٍ، وشَرْطُ ذٰلِک یُخْرِجُہُ عَنْ مَوْضُوْعِہِ۔ [3]

قرض کے ساتھ کوئی ایسی شرط لگانا جائز نہیں، جو [قرض دینے والے کے لیے] نفع کا سبب بنے، جیسے کہ اس [مقروض] کے ہاتھ [کچھ] فروخت کرنا یا اس سے خریدنا، یا اس کو کرایہ پر دینا، یا اس سے کرایہ پر

[2] منقول از: المرجع السابق ص ۲۱۳۔

[3] ملاحظہ ہو: الکافي ۳؍۱۷۵ باختصار۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت