فهرس الكتاب

الصفحة 184 من 255

نے اس سے اعلیٰ [دینے کی] اس پر شرط لگائی ہے۔ ''

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

'' فَذٰلِکَ الرِّبَا۔ ''

'' یہ تو سود ہے۔ ''

اس نے عرض کیا:

'' فَکَیْفَ تَاْمُرُنِيْ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ ''

'' تو [اب] آپ مجھے کس طرح کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ ''

انہوں نے فرمایا:

'' اَلسَلَفُ عَلیٰ ثَلَاثَۃِ وُجُوْہ:

سَلَفٌ تُسْلِفُہُ تُرِیْدُ بِہِ وَجْہَ اللّٰہِ، فَلَکَ وَجْہُ اللّٰہِ۔

وَسَلَفٌ تُسْلِفُہُ تُرِیْدُ بِہِ وَجْہَ صَاحِبَکَ، فَلَکَ وَجْہُ صَاحِبِکَ۔

وَسَلَفٌ تُسْلِفُہُ لِتَأْخُذَ خَبِیْثًا بِطَیِّبٍ، فَذٰلِکَ الرِّبَا۔ ''

'' قرض کی تین اقسام ہیں:

ایک وہ قرض ہے، کہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہو، وہ تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔

ایک وہ قرض ہے، کہ تم اس کے ذریعے اپنے ساتھی کی خوشنودی کو حاصل کرنا چاہتے ہو، تو تمہارے لیے تمہارے ساتھی کی خوشنودی ہے۔

ایک وہ قرض ہے، کہ تم اس کے ذریعے پاک [چیز] کے بدلے میں خبیث [چیز] لینا چاہتے ہو، تو وہ سود ہے۔ ''

اس شخص نے عرض کیا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت