فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 255

کے لیے ہوئے قرض پر اضافہ ہے۔ ''

ج: امام عبدالرزاق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے فرمایا:

'' إِذَا أَسْلَفْتَ رَجُلًا سَلَفًا فَلَا تَقْبَلْ مِنْہُ ھَدِیَّۃَ کُرَاعٍ۔ '' [1]

'' جب تو کسی آدمی کو قرض دے، تو اس سے پایہ کا بھی تحفہ قبول نہ کرو۔ ''

د: امام بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے،

'' أَنَّہُ قَالَ فِيْ رَجُلٍ:'' کَانَ لَہُ عَلیٰ رَجُلٍ عَشْرُوْنَ دِرْھَمًا۔ فَجَعَلَ یُھْدِيْ إِلَیْہِ، وَجَعَلَ کُلَّمَا أَھْدَی إِلَیْہِ ھَدِیَّۃً بَاعَھَا حَتَّی بَلَغَ ثَمَنُھَا ثَلَاثَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما:

'' لَا تَأْخُذْ مِنْہُ إِلَّا سَبْعَۃَ دَرَاھِمَ۔ '' [2]

''یقینا انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، کہ جس کے ایک دوسرے شخص کے ذمہ بیس درہم تھے، اس [یعنی مقروض] نے اس کو تحائف دینے شروع کیے۔ اور جب بھی وہ اس کو ہدیہ دیتا، تو وہ [یعنی قرض خواہ] اس کو فروخت کردیتا، یہاں تک کہ فروختگی سے جمع شدہ رقم تیرہ درہم ہوگئی، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے [اس شخص] کو فرمایا:'' [اب] تم اس سے صرف سات درہم لو۔ ''

ہ: امام بیہقی نے سالم بن ابی الجعد سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:

'' کَانَ لَنَا جَارٌ سَمَّاکٌ، عَلَیْہِ لِرَجُل خَمْسُوْنَ دِرْھَمًا، فَکَانَ

[2] السنن الکبری، کتاب البیوع، باب کل قرض جرَّ منفعۃً فہو ربا، رقم الروایۃ ۱۰۹۳۰، ۵؍ ۵۷۲۔ شیخ البانی نے اس کی [اسناد کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: إرواء الغلیل ۵؍ ۲۳۴) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت