فهرس الكتاب

الصفحة 202 من 255

'' یا اس کے ذمہ جو [قرض] ہے، اس میں سے اس [ہدیہ کی قیمت] کو شمار کرلو۔ ''

ز: امام مالک اس بارے میں فرماتے ہیں:

'' لَا تُقْبَلُ ھَدِیَّۃُ الْمَدْیُوْنِ مَا لَمْ یَکُنْ مِثْلُھَا قَبْلُ أَوْ حَدَثَ مُوْجِبٌ لَھَا۔ '' [1]

''پہلے سے مروجہ باہمی معاملہ یا ہدیہ دینے کے کسی نئے [شرعی] سبب کے بغیر مقروض کا تحفہ قبول نہ کیا جائے گا۔ ''

ح: علامہ شوکانی تحریر کرتے ہیں:

''وَالْحَاصِل أَنَّ الْھَدِیَّۃَ وَالْعَارِیَّۃَ وَنَحْوَھُمَا إِذَا کَانَتْ لِأَجْلِ التَنْفِیْسِ فِيْ أَجَلِ الدَّیْنِ أَوْ لِأَجْلِ رِشْوَۃِ صَاحِبِ الدَّیْنِ أَوْ لِأَجْلِ أَنْ یَکُوْنَ لِصَاحِبِ الدَّیْنِ مَنْفَعَۃً فِيْ مُقَابِلِ دَیْنِہِ، فَذٰلِکَ مُحَرَّمٌ،لِأَنَّہُ نَوْعُ مِنَ الرِّبَا أَوْ رِشْوَۃٌ۔

وَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ لِعَادَۃٍ جَارِیَّۃٍ بَیْنَ الْمُقْرِضِ وَالْمُسْتَقْرِضُ

قَبْلَ التَّدَایُنِ، فَلَا بَأْسَ۔

وَإِنْ لَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ لِغَرْضٍ أَصْلًا، فَالظَّاھِرُ الْمَنْعُ ِلإِطْلَاقِ النَّھْيِ عَنْ ذٰلِکَ۔ '' [2]

'' [گفتگو کا] ماحاصل یہ ہے، کہ بلاشبہ اگر تحفہ [دینا] ، یا عاریۃً کوئی چیز دینا، یا اسی طرح کی کوئی اور صورت اختیار کرنا قرض کی [واپسی کی] مدت

[2] نیل الأوطار ۵؍ ۳۵۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت