۳:تقاضا میں آسانی حصولِ آسانی کی چابی:
امام احمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان
کیا:'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' اِسْمَحْ یُسْمَحْ لَکَ۔ '' [1]
'' [دوسروں کے ساتھ] آسانی کرو،تمہارے لیے آسانی کی جائے گی۔ ''
علامہ مناوی شرح حدیث میں تحریر کرتے ہیں:
'' أَيْ عَامِلِ الْخَلْقَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِیَالُ اللّٰہِ وَعَبِیْدُہُ بِالْمُسَامَحَۃِ وَالْمُسَاھِلَۃِ یُعَامِلْکَ سَیِّدُھُمْ بِمِثْلِہِ فِيْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔ '' [2]
'' مخلوق کے ساتھ، جو کہ اللہ تعالیٰ کے عیال اور غلام ہیں، سہولت اور آسانی کے ساتھ معاملہ کرو، ان کا آقا بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی معاملہ دنیا و آخرت میں کرے گا۔ ''
۴:تقاضا میں آسانی حصول مغفرت کا ایک سبب:
امام ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' غَفَرَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ کَانَ قَبْلَکُمْ۔ کَانَ سَھْلًا إِذَا بَاعَ، سَھْلًا إِذَا اشْتَرَی، سَھْلًا إِذَا اقْتَضَی۔ '' [3]
[2] فیض القدیر ۱؍ ۵۱۲۔
[3] جامع الترمذي، أبواب البیوع، باب، رقم الحدیث ۱۳۳۵، ۴؍ ۴۵۷۔ امام ترمذی نے اس کو [صحیح حسن] اور شیخ البانی نے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۲؍ ۳۴) ۔