فهرس الكتاب

الصفحة 78 من 255

اس پر انہوں [یعنی اللہ تعالیٰ] نے فرمایا:'' میرے بندے سے درگزر کردو۔ ''

ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:'' میں نے [بھی] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا۔ ''

[خوش حال سے قبول کرنے اور تنگ دست سے درگزر کرنے] سے مراد یہ ہے، کہ واپسی کے لیے مقروض کے پاس جو موجود ہوتا، وہ لے لیتا اور جو اس کے پاس میسر نہ ہوپاتا، اس کو معاف کردیتا۔ [1]

امام ابن حبان نے اسی حدیث کے قریب قریب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کردہ حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[ذِکْرُ رِجَائِ تَجَاوُزِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا عَمَّنْ تَجَاوَزَ عَنِ الْمُعْسِرِ] [2]

[تنگ دست سے درگزر کرنے والے کے لیے اللہ جل و علا کے درگزر کرنے کی امید کا ذکر]

ایک دوسری روایت میں ہے:

'' فَغُفِرَ لَہُ۔ '' [3]

'' پس اس کی مغفرت کردی گئی۔ ''

ایک تیسری روایت میں ہے:

[2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب البیوع، باب الدیون، ۱۱؍ ۴۲۶۔

[3] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الاستقراض، باب حسن التقاضي، ۲۳۹۱، ۵؍ ۵۸ ؛ وصحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب فضل إنظار المعسر، رقم الحدیث ۲۸؍ ۱۵۶۰، ۳؍ ۱۱۹۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت