فهرس الكتاب

الصفحة 29 من 532

دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔

(9)ارشاد باری ہے:

{قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ} [1] ۔

کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتا ہے؟ یا کیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہوسکتی ہے؟۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''اندھا اور بینا سے مراد کافر اور مومن ہیں اور تاریکیوں اور روشنی سے مراد ہدایت و گمراہی ہے '' [2] ۔

(10) اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

{كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} [3] ۔

اس کتاب کو ہم نے آپ کی جانب اس لئے اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں۔

قتادہ فرماتے ہیں:''تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں'' یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف لائیں'' [4] ۔

علامہ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''تاکہ آپ لوگوں کو جہالت' کفر'بد اخلاقی اور قسم قسم کے گناہ ومعاصی سے نکال کرعلم ' ایمان اور اچھے اخلاق کی طرف لائیں'' [5] ۔

(11) اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللّٰهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (5) } [6] ۔

[2] جامع البیان عن تاویل آی القرآن للطبری،16/407۔

[3] سورۃ ابراہیم:1۔

[4] جامع البیان عن تاویل آی القرآن للطبری،16/512۔

[5] دیکھئے:تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان للسعدی،ص 375۔

[6] سورۃ ابراہیم:5۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت