اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ '' صحابہ نے پوچھا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:
'' ما أنا علیہ وأصحابي'' [1] ۔
جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(2) فرقہ ناجیہ: (نجات یافتہ جماعت) یعنی جہنم سے نجات پانے والی جماعت،کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرقوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کا استثناء کیا اور فرمایا:
'' کلھا في النار إلا واحدۃ'' [2] ۔
سارے فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے 'یعنی صرف ایک جماعت جہنم سے نجات پائے گی۔
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
''لا تزال طائفۃ من أمتي قائمۃ بأمر اللّٰه لا یضرھم من خذلھم أو خالفھم حتی یأتي أمر اللّٰه وھم ظاھرون علی الناس'' [3] ۔
میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم (اسلام) پر قائم رہے گی،ان کی مدد سے ہاتھ کھینچنے والے یا ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے،یہاں تک کہ اللہ کا حکم (فیصلہ) آ جائے گا اور وہ بدستور تمام لوگوں پر غالب رہیں گے۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت آئی ہے [4] ۔
[2] دیکھئے:من اصول اہل السنۃ والجماعۃ،ازشیخ صالح بن فوزان الفوزان،ص:11۔
[3] صحیح البخاری،کتاب المناقب،بابٌ:حدثنا محمد بن المثنی،4/225،حدیث نمبر (3641) ،نیز صحیح مسلم (الفاظ اسی کے ہیں) ،کتاب الإمارۃ،باب قولہ صلي الله عليه وسلم:''لاتزال طائفۃ من امتي ظاھرین علی الحق لایضرھم من خالفھم'' 2/1524،حدیث نمبر (1037) ۔
[4] صحیح البخاری،کتاب المناقب،بابٌ:حدثنا محمد بن المثنی،4/225،حدیث نمبر (3640) ،نیز صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب قولہ صلي الله عليه وسلم:''لاتزال طائفۃ من امتي ظاھرین علی الحق لایضرھم من خالفھم'' 2/1523،حدیث نمبر (1921) ۔