''إیاکم والغلو في الدین،فإنما أھلک من کان قبلکم الغلو في الدین'' [1] ۔
دین میں غلو کرنے سے بچو،کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہینے ہلاک کیاہے۔
معلوم ہواکہ دین میں غلو کرنا شرک وبدعات اورخواہشات کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے، [2] اور دین میں غلو کی خطرناکی ہی کو محسوس کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں مبالغہ آرائی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
''لا تطروني کما أطرت النصاری عیسی ابن مریم فإنما أنا عبدہ،فقولوا:عبد اللّٰه ورسولہ'' [3] ۔
تم (حدسے زیادہ تعریفیں کرکے) مجھے حد سے آگے نہ بڑھانا جیسا کہ نصاریٰ (عیسائیوں) نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کوحد سے آگے بڑھا دیا تھا،میں اللہ کا بندہ ہوں،لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔
مختلف اعتبار سے بدعت کی مختلف قسمیں ہیں،جن کی تفصیل مختصرًا درج ذیل ہے:
پہلی قسم:بدعت حقیقی وبدعت اضافی:
1-بدعت حقیقی:وہ بدعت ہے جس پر کتاب اللہ،سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم،اجماع اور اہل علم کے کسی معتبر استدلال سے اجمالی یا تفصیلی طور پر کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہ ہو،اسے بدعت اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دین میں بلا کسی سابق مثال کے ایک نوایجاد شئے ہے [4] ۔
[2] دیکھئے:اقتضاء الصراط المستقیم،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ،1/289،والاعتصام،از امام شاطبی،1/329-331،ورسائل ودراسات في الأھوائ۔۔۔از ڈاکٹر ناصر عبدالکریم العقل،1/171،183،و الغلو في الدین في حیاۃ المسلمین المعاصرۃ،از ڈاکٹر عبدالرحمن ابن معلا اللویحق،ص:77-81،والحکمۃ في الدعوۃ إلی اللّٰه عز وجل،از سعید بن علی القحطانی (صاحب کتاب) ،ص:379۔
[3] صحیح البخاری،کتاب الانبیاء،باب قول اللّٰه تعالیٰ: {واذکر في الکتاب مریم۔۔۔} 4/171،حدیث نمبر (3445) ۔
[4] دیکھئے:الاعتصام،از امام شاطبی،1/367۔