وفات ہوتی ہے اور اس کی ضرورت اس کے سینہ ہی میں رہتی ہے،یہ لوگ روئے زمین کے گوشہ گوشہ سے اٹھائے جائیں گے۔
یہ نور عام مسلمانوں کو قیامت کے روز حاصل ہونے والے نور سے بڑا ہوگا،اسی لئے امام ابن القیم رحمہ اللہ نے قیامت کے روز مومنوں کے نور کا تذکرہ کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ان کے ایمان یقین اور اخلاص کی قوت کے اعتبار سے ہوگا،فرماتے ہیں:''چنانچہ کسی کا نور آفتاب کی طرح ہوگا اور کسی کا اس سے کم چاند کی طرح اور کسی کا اس سے کم آسمان میں روشن ستارے کی طرح '' [1] ۔
''ھم في الظلمۃ دون الجسر'' [2] ۔
وہ تاریکی میں پل صراط پر ہوں گے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:'' الجسر'' - جیم پر زبر اور زیر کے ساتھ - اس چیز کو کہتے ہیں جس پر عبور کیا جائے،یہاں پل صراط مراد ہے،اور ''دون'' کے معنیٰ اوپر کے ہیں،جیساکہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ''علی الصراط'' [3] (یعنی پل صراط پر) کے الفاظ ہیں۔
جن احادیث سے زمین کی تبدیلی کے وقت لوگوں کے پل صراط پر ہونے کا پتہ چلتا ہے وہ قریب قریب الفاظ میں وارد ہیں،چانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے فرمان:
{يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ} ۔
جس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا۔
[2] صحیح مسلم،کتاب الحیض،باب صفۃ منی الرجل والمرأۃ وان الولد مخلوق من مائھما،1/252،حدیث (315) ۔
[3] المفھم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم،1/574،7/352،نیز دیکھئے:اکمال اکمال المعلم شرح صحیح مسلم للابی،2/156۔