ہوتے ہیں،اور ان اختلافِ درجات کا سبب مندرجہ ذیل امور ہیں:
1-بدعتی مدعی اجتہاد یا مقلد ہو۔
2-بدعت کا وقوع بدیہی امور میں ہو،مثلًا دین'نفس'عزت وآبرو' عقل اور مال وغیرہ۔
3-بدعتی اپنی بدعت کو چھپا رہا ہو یا علانیہ انجام دے رہا ہو۔
4-بدعتی اپنی بدعت کی طرف دوسروں کو بلا رہا ہو یا خاموش ہو۔
5-بدعتی اہل سنت وجماعت سے بغاوت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔
6-بدعت حقیقی ہے یا اضافی ہے۔
7-بدعت واضح ہے یا غیر واضح ہے۔
8-بدعت کفر ہے یا کفر نہیں ہے۔
9-بدعتی اپنی بدعت پرمصر ہے یا مصر نہیں ہے۔
امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''یہ مراتب ودرجات اپنی خطرناکی کے اعتبار سے گناہ میں مختلف ہوتے ہیں'' [1] ،نیز وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''ان مراتب میں سے بعض مراتب حرام اور ناپسندیدہ (مکروہ) ہیں،البتہ ضلالت و گمراہی کی صفت ان تمام اقسام میں مشترک اور لازم ہے'' [2] ،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہ کے اعتبار سے بدعت کی تین قسمیں ہیں:
[1] کفر بواح یعنی کھلا ہوا کفر [3] ۔
[2] گناہِ کبیرہ [4] ۔
[3] گناہ صغیرہ [5] ۔
[2] دیکھئے:الاعتصام،از امام شاطبی،2/530۔
[3] دیکھئے:حوالہ سابق،2/516۔
[4] دیکھئے:حوالہ سابق،2/517،نیز 2/543-544۔
[5] دیکھئے:حوالہ سابق،2/517،نیز 2/539،543-550۔