مرتبہ قحط سالی سے دوچار ہوئے،مصائب کے شکار ہوئے لیکن کبھی بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس نہ آئے،بلکہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عباس (عم رسول) رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے اور ان سے طلبِ باراں کے لئے دعا کروائی،سلف صالحین قبروں کے پاس دعا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے،چنانچہ علی بن الحسین رضی اللہ عنہمانے ایک شخص کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں داخل ہوکر دعا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جسے میں نے اپنے والد 'اپنے دادا کے واسطے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''لا تجعلوا قبري عیدًا،ولا تجعلوا بیوتکم قبورًا،وصلّوا علي وسلموا حیثما کنتم،فسیَبْلُغُني سلامکم وصلاتکم'' [1] ۔
میری قبر کو عید (میلا ٹھیلا) نہ بناؤ،اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ،اور جہاں کہیں بھی رہو مجھ پر درود وسلام بھیجتے رہو کیونکہ تمہارا درود وسلام مجھے پہنچ جائے گا۔
اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سطح زمین پر پائی جانے والی تمام قبروں سے افضل ہے،اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عید (میلا ٹھیلا) بنانے سے منع فرمایا ہے،تودیگر قبروں کے پاس اس غرض سے جانا بدرجۂ اولیٰ حرام اورممنوع ہوگا' خواہ وہ کسی کی قبرہو [2] ،اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''لا تجعلوا بیوتکم قبورًا ولا تجعلوا قبري عیدًا،وصلّوا علي فإن صلاتکم تَبْلُغُني حیث کنتم '' [3] ۔
اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ،اورمیری قبر کو عید (میلا ٹھیلا) نہ بناؤ،اور مجھ پر درود بھیجتے رہو کیونکہ
[2] الدرر السنیۃ في الأجوبۃ النجدیۃ،از عبد الرحمن بن قاسم،6/165-174۔
[3] سنن أبو داؤد، (انہی الفاظ کے ساتھ) کتاب المناسک،باب زیارۃ القبور،2/218،حدیث نمبر (2042) ومسند احمد،2/367،علامہ البانی نے اپنی کتاب ''تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد'' (ص:142) میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔