فهرس الكتاب

الصفحة 410 من 532

(8) بدعتی سب سے زیادہ فتنوں سے دوچار ہوتے ہیں:جب کہ اللہ تعالیٰ نے فتنوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے،ارشاد ربانی ہے:

{وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (25) } [1] ۔

اور ایسے فتنہ سے بچو جو صرف تم میں سے ظلم کرنے والوں ہی پر نہ واقع ہو گا،اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

نیزارشاد ہے:

{فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (63) } [2] ۔

سنو جو لوگ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پرزبردست آفت نہ آپڑے یاانھیں دردناک عذاب نہ پہونچے۔

کیا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور آپ کے حکم کی نافرمانی سے زیادہ خطرناک کوئی اور فتنہ ہو سکتا ہے؟؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنو ں کے وقوع سے قبل اعمال صالحہ کی ترغیب دلائی ہے،ارشاد ہے:

''بادروا بالأعمال فتنًا کقطع اللیل المظلم،یصبح الرجل مؤمنًا ویمسي کافرًا،أو یمسي مؤمنًا ویصبح کافرًا،یبیع دینہ بعرضٍ من الدنیا'' [3] ۔

ان فتنوں کے وقوع سے پہلے نیک اعمال کی طرف سبقت اور جلدی کرو جو شب دیجور کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے،کہ آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر،یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر،اپنے دین کو ایک دنیوی سامان کے عوض فروخت کردے گا۔

[2] سورۃ النور:63۔

[3] صحیح مسلم،بروایت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ،کتاب الإیمان،باب الحث علی المبادرۃ بالأعمال قبل تظاھر الفتن،1/110،حدیث نمبر (118) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت