فهرس الكتاب

الصفحة 412 من 532

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تواللہ تعالیٰ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا،اور تم کو بخش دے گا،اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے۔

(11) بدعتی اپنا اور اپنے متبعین کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''من دعا إلی ھدی کان لہ من الأجر مثل أجور من تبعہ لا ینقص ذلک من أجورھم شیئًا،ومن دعا إلی ضلالۃٍ کان علیہ من الإثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذلک من آثامھم شیئًا'' [1] ۔

جس نے کسی کو ہدایت کی بات کی طرف دعوت دی تو اسے اسی طرح اجرو ثواب ملے گا جس طرح اس پر عمل کرنے والے کو،لیکن ان کے ثوابوں میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہوگی،اور جس نے کسی کو گمراہی کی بات کی طرف بلایا،اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس گمراہی پر عمل کرنے والے کو،لیکن ان کے گناہوں میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہوگی۔

(12) بدعت بدعتی کو لعنت کا مستحق بناتی ہے:چنانچہ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بدعت ایجاد کرنے والے کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا:

''من أحدث فیھا حدثًا أو آوی محدثًا فعلیہ لعنۃ اللّٰه،والملائکۃ،والناس أجمعین،لایقبل اللّٰه منہ صرفًا ولا عدلًا'' [2] ۔

جس نے مدینہ میں کوئی بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو پناہ دی،اس پر اللہ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے،اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ فرمائے گا۔

امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''یہ حدیث عموم کے سیاق میں ہے،لہٰذا اس میں شریعت کی منافی ہر نئی

[2] متفق علیہ:البخاری،کتاب الاعتصام،باب إثم من آوی محدثًا،8/187،حدیث نمبر (3706) ،ومسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینۃ،ودعاء النبي صلي الله عليه وسلم فیھا بالبرکۃ،2/994،حدیث نمبر (1366) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت