فهرس الكتاب

الصفحة 453 من 532

بیشک جو اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے ' تواللہ نیک کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(21) دنیا وآخرت کی نیک انجامی:متقیوں کے لئے دنیا و آخرت میں نیک انجام ہوگا:

اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:

{وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ (132) } [1] ۔

اپنے گھرانے والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر جمے رہو' ہم تم سے روزی نہیں مانگتے' بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں' نیک انجام تقویٰ ہی کا ہے۔

نیز ارشاد ہے:

{قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلّٰهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (128) } [2] ۔

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو'یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے' اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے اور نیک انجام متقیوں ہی کے لئے ہے۔

نیز ارشاد ہے:

{فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ (49) } [3] ۔

لہٰذا آپ صبر کرتے رہئے یقینا انجام کار متقیوں ہی کے لئے ہے۔

مزید ارشاد ہے:

{تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (83) } [4] ۔

[2] سورۃالاعراف:128۔

[3] سورۃ ھود:49۔

[4] سورۃ القصص:83۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت