فهرس الكتاب

الصفحة 480 من 532

{الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ} [1] ۔

وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی ' سوائے چھوٹے گناہ کے۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ' وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا:یہ کہ تم اللہ کا کوئی شریک بناؤ' جبکہ تنہااس نے تمہیں پیداکیا ہے' میں نے کہا:واقعی یہ تو بہت بڑا گناہ ہے' کہتے ہیں کہ میں عرض کیا:پھر کونسا گناہ؟ آپ نے فرمایا:پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا،کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:پھر کونسا گناہ؟ آپ نے فرمایا:پھر یہ کہ تم اپنی پڑوسن سے زناکرو [2] ۔

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے' وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں؟ (تین مرتبہ) ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتایئے) فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا،آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا:خبردار! اور جھوٹی بات' آپ اسے مسلسل دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا:اے کاش آپ خاموش ہوجاتے [3] ۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''الصلوات الخمس،والجمعۃ إلی الجمعۃ،ورمضان إلی رمضان،مکفرات لما بینھن إذا اجتنبت الکبائر '' وفي روایۃ:''مالم تغش الکبائر'' [4] ۔

پنجوقتہ نمازیں' ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں سرزد

[2] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب تفسیر القرآن،باب قولہ تعالی: {فلا تجعلوا للّٰه أندادًا وأنتم تعلمون} ،5/ 172،حدیث نمبر: (4477) ومسلم،کتاب الایمان،باب کون الشرک أعظم الذنوب وبیان أعظمھا بعدہ،1/90،حدیث نمبر: (86) ۔

[3] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب الشھادات،باب ماقیل فی شھادۃ الزور،2/204،حدیث نمبر: (2654) ومسلم،کتاب الایمان،باب الکبائر و أکبرھا،1/91،حدیث نمبر: (87) ۔

[4] صحیح مسلم،کتاب الطھارہ،باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ ورمضان الی رمضان مکفرات لما بینھن ما اجتنبت الکبائر،1/209،حدیث نمبر: (2332) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت