فهرس الكتاب

الصفحة 21 من 96

کریم کی طرف سے اسے بدلنے سے جملے میں حصر پیدا ہوا، جس کی بنا پر اس کے حسبِ ذیل دو معانی ہوں گے:

ا: تمہارا رزق آسمان میں ہے۔

ب: تمہارا رزق آسمان کے سوا کہیں اور نہیں۔

اور دونوں معانی کے ملانے سے معنیٰ یہ ہو گا:

[آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے] ۔

ا: اپنی ذات بالا و برتر کی قسم کھائی۔

ب: بات کی پختگی کے لیے [إِنَّ] کو [إِنَّہ ج: [إِنَّہٗ] میں [ہٗ] ضمیر الشان استعمال فرمائی، جو کہ بعد میں بیان کی جانے والی بات کی اہمیت اور شان و عظمت پر دلالت کرتی ہے۔

د: [لَحَقٌّ] میں [لام توکید] [بات کو پختہ کرنے والا لام] استعمال فرمایا۔

ہ: بیان کردہ حقیقت کو بولنے والے انسان کے بولنے کے ساتھ تشبیہ دی، کہ جس کے سمجھنے اور ماننے میں بولنے والے کے لیے ادنیٰ شک کا احتمال بھی نہیں ہوتا۔ [2]

۲: ارشادِ ربانی:

یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْأَرْضِ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ فَاَنّٰی

[2] ملاحظہ ہو: بدائع التفسیر ۳/۴۲-۴۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت