اس بنا پر اس دُعا کے آغاز میں:
[رَبَّنَا] یا [اَللّٰہُمَّ]
جو بھی کہا جائے گا، درست اور صحیح ہو گا۔
[آخرت میں حَسَنَۃً] میں بلند ترین چیز جنت میں داخلہ اور ضمنی طور پر بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہنا، حساب میں آسانی اور آخرت کے دیگر اچھے معاملات شامل ہیں۔
[دوزخ کی آگ سے نجات] میں حرام کردہ چیزوں اور گناہوں سے بچاؤ کے اسباب کا میسر آنا اور شبہات اور ناجائز باتوں اور کاموں کا ترک کرنا بھی شامل ہے۔ [3]
اس دعا نے …جیسے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر علماء نے بیان کیا ہے… [4] اپنے اندر دنیا کی ہر خیر کو سمو دیا اور ہر شر کو پھیر دیا۔
۸-۲: امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
[''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا (یعنی دعا کیا) کرتے تھے:
'' اَللّٰہُمَّ أَصْلِحْ لِيْ دِیْنِيْ الَّذِيْ ھُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِيْ،
وَأَصْلِحْٖ لِيْ دُنْیَايَ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَاشِيْ،
وَأَصْلِحْ لِيْ آخِرَتِيْ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَادِيْ،
[2] خاتون کی دعا کی صورت میں [اچھا خاوند] مراد ہو گا۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱؍ ۱۹۲۔
[3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱؍ ۲۶۱؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱/۱۹۲۔
[4] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۲۶۱-۲۶۲؛ و فتح الباري ۱۱/۱۹۱-۱۹۲۔