فهرس الكتاب

الصفحة 28 من 96

ہونے کا معنیٰ ہوتا ہے۔ مفسرین نے [اَلْمَتِیْنُ] کا معنیٰ [اَلشَّدِیْدُ الْقُوَّۃِ] [1] [بہت زبردست قوت] والے بیان کیا ہے۔

[اَلرَّزَّاقُ] کے ساتھ [ذُو الْقُوَّۃِ اَلْمَتِیْنُ] فرمانے میں …و اللہ تعالیٰ أعلم… حکمت یہ ہے، کہ اُن کے رزق عطا فرمانے میں کسی کے بھی رکاوٹ بننے کی مجال نہیں۔ وہ جسے، جب، جتنا اور جیسے چاہیں، محض اپنی مشیئت سے عطا فرماتے ہیں۔ [2]

۶: ربِّ کریم نے …ابراہیم علیہ السلام کی اپنی قوم کو دی ہوئی دعوت کو نقل کرتے ہوئے… فرمایا:

{اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا} [3]

[بلاشبہ وہ لوگ، جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو، تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں] ۔

آیتِ شریفہ کے حوالے سے دو باتیں:

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر السعدي ص ۸۱۳؛ و تفسیر التحریر و التنویر ۲۷/۲۹۔

[3] سورۃ العنکبوت / جزء من الآیۃ ۱۷۔

[4] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۰۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۰۶؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۳۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت