زیادہ ہونا، بڑھنا اور دائمی ہونا] ہے۔ [1]
( ''اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْ اللَّحْمِ وَالْمَآئِ۔''
[اے اللہ! میرے لیے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرمائیے] ۔
( ''اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْ طَعَامِيْ وَشَرَابِيْ۔''
[اے اللہ! میرے لیے میرے کھانے اور پینے میں برکت عطا فرمائیے] ۔
اپنے ساتھ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کے لیے دعا کرنے والا حسبِ ذیل الفاظ کہے:
( '' اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيْ طَعَامِنَا وَشَرَابِنَا۔''
( ''اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيْ اللَّحْمِ وَالْمَآئِ۔''
۴-۱: حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی حدودِ سلطنت سے بے سر و سامانی کے عالَم میں بھاگ کر مدین پہنچے۔ کنویں پر موجود دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا۔ پھر ایک درخت کے سائے تلے آ کر درجِ ذیل دعا کی:
{رَبِّ إِنِّیْ لِمَآ أَنْزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ} [2]
[اے میرے رب! آپ جو خیر بھی میری جانب نازل فرمائیں، بلاشبہ میں اس کا محتاج ہوں] ۔
تنبیہ:
اپنے ساتھ دوسروں کو اس دعا میں شامل کرنے والا حسبِ ذیل الفاظ کہے:
( [رَبَّنَآ إِنَّنَا لِمَآ اَنْزَلْتَ إِلَیْنَا مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ] ۔
[2] سورۃ القصص/ جزء من الآیۃ ۲۴۔