فهرس الكتاب

الصفحة 24 من 96

کہ: [اللہ تعالیٰ] ، کیونکہ اس حقیقت کے انکار کی گنجائش ہی نہیں۔ [1]

یعنی جب حق اور سچ بات یہ ہے، کہ آسمان اور زمین سے رزق دینے اور دیگر تین اوصاف میں اللہ تعالیٰ منفرد، یکتا، لاثانی، عدیم النظیر، بے مثال اور وحدہٗ لا شریک ہیں، تو پھر کسی اور کو ان چاروں کاموں کا کرنے والا یا اُن کے انجام دینے میں اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھنا، کیونکر روا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب یہ سمجھنا حق نہیں، تو ناحق، باطل، گمراہی اور ضلالت ہو گا، حق و باطل کے درمیان کوئی تیسری چیز نہیں ہوتی، [3] جیسے کہ جب دن نہیں، تو رات ہو گی اور رات نہیں، تو دن ہو گا، کسی تیسری چیز کے وجود کا تصور بھی خارج از امکان ہے۔

۴: ارشادِ باری تعالیٰ:

اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ہَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۴/۱۴۱۔

[3] ملاحظہ ہو: الکشاف ۲/۲۳۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت