[اَلرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ] ہیں۔ [1]
- (وَ اعْبُدُوْہُ) [اُن کی عبادت کرو] ، کہ طلبِ رزق کی فرمائش پورا کروانے میں ربِّ ذوالجلال کی مخلصانہ عبادت ایک موثر ہتھیار ہے۔
- (وَ اشْکُرُوْا لَہٗ) [اُن کا شکر کرو] ، کہ اُن کے شکر کرنے سے حاصل شدہ رزق کی نعمت زوال سے محفوظ ہو جاتی ہے اور آئندہ اُس نعمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ [2]
''یَا عِبَادِيْ! کُلُّکُمْ جَآئِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُہٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْٓ أُطْعِمْکُمْ۔ یَا عِبَادِيْ! کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ فَاسْتَکْسُوْنِيْٓ أَکْسُکُمْ۔''
[''اے میرے بندو! تم تمام بھوکے ہو، مگر جِسے میں کھلاؤں، سو تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔
اے میرے بندو! تم سب برہنہ ہو، مگر جسے میں (لباس) پہناؤں، سو تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں (لباس) پہناؤں گا۔'']
پھر اسی حدیث شریف میں فرمایا:
'' یَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ، فَسَأَلُوْنِيْ، فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہٗ، مَا نَقَصَ
[2] ملاحظہ ہو: تفسیر أبی السعود ۷/۳۴؛ و فتح القدیر ۴/۲۸۰۔