فهرس الكتاب

الصفحة 33 من 96

کہ حضراتِ مفسرین نے بیان کیا ہے… چار درجِ ذیل ہیں:

ا: اللہ تعالیٰ کے ازراہِ نوازش خود اپنے کیے ہوئے وعدے کی بنا پر اس کا واجب ہونا ہے۔ [1]

ب: جن و انس کے رزق کے انہیں پہنچنے کی قطعیت اور حتمیت کو اُجاگر کرنے کی خاطر۔ [2]

ج: مکلّفین کے دل و دماغ میں اس حقیقت کو راسخ کرنے کی غرض سے۔ [3]

د: مکلّفین کو رزق طلب کرتے ہوئے غیر شرعی، غیر ضروری جدوجہد سے باز رکھنے کے لیے۔ [4]

پہلا معنیٰ: زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔

دوسرا معنیٰ: زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے ذمے نہیں۔

دونوں جملوں کے ملانے سے معنیٰ درج ذیل ہو گا:

[زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے] ۔

[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۱۸۶۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر البیضاوي ۱/۴۵۰؛ و تفسیر أبي السعود ۴/۱۸۶۔

[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۱۸۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت