کہ حضراتِ مفسرین نے بیان کیا ہے… چار درجِ ذیل ہیں:
ا: اللہ تعالیٰ کے ازراہِ نوازش خود اپنے کیے ہوئے وعدے کی بنا پر اس کا واجب ہونا ہے۔ [1]
ب: جن و انس کے رزق کے انہیں پہنچنے کی قطعیت اور حتمیت کو اُجاگر کرنے کی خاطر۔ [2]
ج: مکلّفین کے دل و دماغ میں اس حقیقت کو راسخ کرنے کی غرض سے۔ [3]
د: مکلّفین کو رزق طلب کرتے ہوئے غیر شرعی، غیر ضروری جدوجہد سے باز رکھنے کے لیے۔ [4]
پہلا معنیٰ: زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔
دوسرا معنیٰ: زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے ذمے نہیں۔
دونوں جملوں کے ملانے سے معنیٰ درج ذیل ہو گا:
[زمین میں چلنے والے ہر جان دار کا رزق اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے] ۔
[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۱۸۶۔
[3] ملاحظہ ہو: تفسیر البیضاوي ۱/۴۵۰؛ و تفسیر أبي السعود ۴/۱۸۶۔
[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۱۸۶۔