فهرس الكتاب

الصفحة 150 من 255

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دوسرا جنازہ لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:'' ھَلْ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟ ''

'' کیا اس کے ذمے کوئی قرض ہے؟ ''

انہوں نے عرض کیا:'' جی ہاں!''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' فَصَلُّوْا عَلیٰ صَاحِبِکُمْ۔ ''

'' تم [ہی] اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ ''

ابوقتادہ نے عرض کیا:'' عَلَيَّ دَیْنُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ ''

'' اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!اس کا قرض میرے ذمے ہے۔ '' [یعنی میں ا س کا قرض ادا کر دوں گا۔]

'' فَصَلَّی عَلَیْہِ۔ '' [1]

'' تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ''

سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' بِالْوَفَائِ؟ ''

'' (تم ذمہ داری لیتے ہو) ادائیگی کی؟ ''

انہوں نے عرض کیا:'' بِالْوَفَائِ۔ ''

'' (جی ہاں!) ادائیگی کی۔ '' [2]

المستدرک میں ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' ھُمَا عَلَیْکَ، وَفِيْ مَالِکَ، وَالْمَیِّتُ مِنْھُمَا بَرِيْئٌ۔ ''

'' وہ دو (قرض والے دینار) تجھ پر اور تیرے مال پر ہیں اور میت دونوں (کی ادائیگی) سے بری ہوچکی ہے۔ ''

[2] صحیح سنن النسائی ۲؍ ۹۷۰ ؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲؍ ۵۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت